سابق امریکی سفارتکار اور ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی ریچرڈ گرینل نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید پر مسلسل آواز اٹھائی ہے۔ گرینل، جنہیں بین الاقوامی سطح پر اپنی کھلی سیاسی رائے کے لیے جانا جاتا ہے، عمران خان کے سخت حامی سمجھے جاتے ہیں اور ان کی حراست کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔
ریچرڈ گرینل نے ٹرمپ دورِ حکومت میں کئی اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔ 2018 میں انہیں جرمنی میں امریکہ کا سفیر مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں وہ نیشنل انٹیلیجنس کے قائم مقام ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ امریکہ کے پہلے ایسے شخص تھے جو ہم جنس پرست ہونے کے باوجود کابینہ کی سطح کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 2019 سے 2021 کے دوران وہ سربیا اور کوسوو کے درمیان امن مذاکرات کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی بھی رہے۔
گرینل صرف سفارتی کردار ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سیاسی معاملات پر بھی واضح مؤقف رکھتے ہیں۔ وہ کئی بار عمران خان کی حمایت میں بیانات دے چکے ہیں۔ 26 نومبر 2024 کو انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں عمران خان کو “پاکستان کا ٹرمپ جیسا رہنما” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ “پاکستان کو دیکھیں، ان کا ٹرمپ جیسا رہنما جعلی الزامات پر جیل میں ہے، اور وہاں کے عوام امریکہ میں ریپبلکن پارٹی کی واپسی (سرخ لہر) سے متاثر ہیں۔ دنیا بھر میں سیاسی بنیادوں پر کارروائیاں بند ہونی چاہئیں۔”
اسی روز گرینل نے ایک اور ٹویٹ میں عمران خان کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کے اس مؤقف کو پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری نے سراہا اور لندن سے ان کا شکریہ ادا کیا۔
ریچرڈ گرینل کی مسلسل حمایت عالمی سطح پر عمران خان کے مقدمے اور پاکستان میں عدالتی و سیاسی آزادی سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے بیانات نہ صرف عمران خان کی سیاست سے نظریاتی وابستگی کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ پاکستان کے اندرونی سیاسی حالات پر بین الاقوامی دلچسپی اور دباؤ کا بھی اظہار ہیں۔
Urdu News Nation