غزہ کے لیے انسانی امداد لے جانے والے ایک بین الاقوامی بحری جہاز سے تمام رابطے منقطع ہو گئے ہیں، جس کے بعد اس پر ممکنہ ڈرون حملے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ یہ جہاز ’ہندالہ‘ Freedom Flotilla Coalition (فریڈم فلوٹیلا کولیشن) کا حصہ تھا، جس کا مقصد اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑ کر محصور فلسطینی عوام تک امداد پہنچانا تھا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، فریڈم فلوٹیلا کولیشن نے جمعرات کو اعلان کیا کہ جہاز *ہندالہ* اور اس کے عملے سے تمام مواصلاتی رابطے ختم ہو چکے ہیں۔ کولیشن نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ جہاز کے قریب کئی ڈرونز کی موجودگی دیکھی گئی ہے، جس سے یہ اندیشہ پیدا ہو گیا ہے کہ جہاز کو روکا گیا ہے یا اس پر حملہ کیا گیا ہے۔
کولیشن نے دنیا بھر میں اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ عملے کی حفاظت کے لیے آواز بلند کریں اور اپنے مقامی نمائندوں اور میڈیا سے رابطہ کریں تاکہ اسرائیل پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ جہاز کو محفوظ راستہ دے اور غزہ تک پہنچنے دے۔
تاحال جہاز کے مقام، عملے کی حالت یا اسرائیل کی کسی ممکنہ کارروائی سے متعلق کوئی تصدیق شدہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب فریڈم فلوٹیلا کولیشن کو ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ 2 مئی کو بھی کولیشن کے ایک جہاز پر، جو غزہ جا رہا تھا، مالٹا کے قریب ڈرون حملہ ہوا تھا جس سے جہاز میں آگ لگ گئی تھی۔ بعد ازاں 9 جون کو اسرائیلی فورسز نے امدادی سامان لے جانے والی کشتی ’میڈلین‘ کو بین الاقوامی پانیوں میں روک کر اس میں سوار 12 افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔ ان میں فرانس، جرمنی، برازیل، ترکی، اسپین اور نیدرلینڈز کے کارکن شامل تھے۔
فریڈم فلوٹیلا کولیشن مختلف بین الاقوامی تنظیموں پر مشتمل ایک اتحاد ہے جس کا مقصد غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنا اور انسانی امداد فراہم کرنا ہے۔ حماس نے حالیہ واقعے پر کہا ہے کہ فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے آزادی کی آواز کو خاموش نہیں کر سکتے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع پہلے ہی فوج کو حکم دے چکے ہیں کہ وہ کسی بھی امدادی جہاز کو غزہ جانے سے روکے۔ اب ’ہندالہ‘ کی گمشدگی نے عالمی برادری میں خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
Urdu News Nation