اسلام آباد سے لاہور جانے والی ایک مسافر بس چکوال کے قریب موٹروے پر خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد جاں بحق اور 31 زخمی ہو گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ ڈرائیور کی غفلت کے باعث پیش آیا، جس سے بس بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری۔
ریسکیو حکام کے مطابق حادثہ صبح کے وقت ڈھوک سیال کے قریب پیش آیا جب ڈرائیور موڑ پر بس کا توازن برقرار نہ رکھ سکا۔ بس سڑک سے اتر کر کھائی میں جا گری، جس کے نتیجے میں موقع پر ہی 6 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ 31 زخمیوں کو فوری طور پر ٹراما سینٹر کلر کہار اور ڈی ایچ کیو اسپتال چکوال منتقل کیا گیا۔
تاہم اسپتال میں دورانِ علاج مزید 3 زخمی دم توڑ گئے، جس سے جاں بحق افراد کی تعداد 9 ہو گئی۔ ڈپٹی کمشنر چکوال کے مطابق شدید زخمی افراد کو بہتر طبی سہولیات کے لیے ہولی فیملی اسپتال راولپنڈی منتقل کر دیا گیا ہے۔
موٹروے پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ یہ بس اسلام آباد سے لاہور جا رہی تھی اور ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حادثہ ڈرائیور کی لاپرواہی اور تیز رفتاری کی وجہ سے پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق بس غیر معمولی رفتار سے چل رہی تھی اور مکمل طور پر بے قابو لگ رہی تھی۔
چکوال پولیس کے مطابق حادثے کے بعد بس کا ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا ہے۔ پولیس نے ڈرائیور کی تلاش شروع کر دی ہے اور موٹروے پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔
اسی روز ایک اور حادثہ جامشورو کے قریب ایم 9 موٹروے پر پیش آیا، جہاں کراچی سے لاڑکانہ جانے والی ایک مسافر کوچ ٹرک سے ٹکرا گئی۔ اس حادثے میں کوچ کا کلینر اور ٹرک ڈرائیور موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 8 افراد زخمی ہوئے۔
حکام نے ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور ڈرائیوروں پر زور دیا ہے کہ وہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کریں اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ گاڑی چلائیں۔ یہ واقعات ملک میں ٹریفک کے نظام اور روڈ سیفٹی کے مؤثر اقدامات کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔
Urdu News Nation