خیبرپختونخوا لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ سے 80 سرکاری گاڑیاں غائب ہونے کا انکشاف: آڈٹ رپورٹ

خیبرپختونخوا کے محکمہ لائیو اسٹاک کی آڈٹ رپورٹ میں ایک سنگین انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے مطابق مختلف منصوبوں کے لیے خریدی گئی 80 سرکاری گاڑیاں غائب ہیں۔ یہ گاڑیاں 2007 سے 2021 کے درمیان لائیو اسٹاک منصوبوں کے لیے خریدی گئی تھیں۔

موصول دستاویزات کے مطابق آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محکمہ لائیو اسٹاک آڈٹ کے دوران 80 گاڑیوں کا ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہا۔ ان گاڑیوں کی رجسٹریشن ڈی جی لائیو اسٹاک کے نام پر موجود ہے، تاہم ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے ریکارڈ کے باوجود یہ گاڑیاں نہ دفاتر میں ہیں اور نہ ہی فیلڈ میں۔

ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے مطابق یہ تمام گاڑیاں ڈی جی لائیو اسٹاک کے نام رجسٹرڈ ہیں لیکن ان کی موجودگی کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ یہ صورتحال محکمہ کی شفافیت اور داخلی نظام پر سنگین سوالات اٹھا رہی ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں ان گاڑیوں کا سراغ لگانے اور مکمل تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق محکمہ نے گزشتہ 14 سالوں میں 200 سے زائد گاڑیاں مختلف منصوبوں کے لیے خریدی تھیں، جن میں سے 80 گاڑیوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں اور وہ کسی بھی مقام پر نظر نہیں آ رہیں۔ اس معاملے پر بدانتظامی، غفلت یا کرپشن کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر لائیو اسٹاک فضل حکیم نے تصدیق کی کہ گاڑیوں کی گمشدگی پر فوری ایکشن لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا: “میں نے تمام گاڑیوں کو واپس جمع کرنے کے احکامات دے دیے ہیں اور متعلقہ محکموں کو خطوط بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔”

وزیر لائیو اسٹاک نے مزید بتایا کہ سیکرٹری لائیو اسٹاک نے تمام متعلقہ محکموں کو خطوط ارسال کر دیے ہیں تاکہ گمشدہ گاڑیوں کی تلاش اور واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔

آڈٹ رپورٹ میں نہ صرف گمشدہ گاڑیوں کا سراغ لگانے کی سفارش کی گئی ہے بلکہ محکمے کے ریکارڈ رکھنے کے نظام میں خامیوں اور نگرانی کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد محکمے میں مزید تحقیقات اور احتساب کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔

About نشرح عروج

Nashra is a journalist with over 15 years of experience in the Pakistani news industry.

Check Also

ایس ایس جی کمانڈر میجر عدنان اسلم شہادت کے رتبے پر فاٸز

إِنَّا اِلِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ بہادری کی اعلیٰ مثال قاٸم کرنے والے ایس ایس جی …