سانگھڑ سے صحافی کی لاش ملنے کا واقعہ: ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی

سانگھڑ پولیس نے صحافی خاور حسین کی موت کے معاملے پر ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کر دی ہے۔ خاور حسین کی لاش ملنے کے واقعے نے صحافتی حلقوں میں تشویش اور صدمے کی فضا پیدا کر دی ہے جبکہ پولیس تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔

ابتدائی طبی رپورٹ کے مطابق خاور حسین کے سر میں گولی لگی جو ان کے اپنے لائسنس یافتہ پستول سے چلائی گئی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ واقعہ خودکشی کا لگتا ہے، تاہم حتمی نتیجے پر پہنچنے سے قبل ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

پولیس کے مطابق اہم شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں جن میں فنگر پرنٹس اور سی سی ٹی وی فوٹیج شامل ہیں۔ ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ واقعے کے روز خاور حسین دو مرتبہ مقامی ریسٹورینٹ میں داخل ہوئے اور واپس آئے۔ بعد ازاں وہ تقریباً دو گھنٹے اپنی گاڑی میں بیٹھے رہے، جس کے بعد یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ دو عینی شاہدین نے بھی پولیس کو بیان دیا ہے کہ انہوں نے خاور حسین کو ریسٹورینٹ اور گاڑی کے درمیان آتے جاتے دیکھا۔

تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ خاور حسین کے پاس دو موبائل فون تھے۔ ان میں سے ایک برآمد کر لیا گیا ہے جبکہ دوسرا تاحال غائب ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دوسرا موبائل یا تو گر گیا ہے یا کہیں رکھ کر بھول گئے، یا پھر کسی نے اٹھا لیا ہو سکتا ہے۔ برآمد ہونے والے موبائل کا فارنزک تجزیہ جاری ہے تاکہ آخری لمحات کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔

پولیس حکام نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج خاور حسین کی سرگرمیوں اور حرکات پر مزید روشنی ڈالنے میں مددگار ثابت ہو گی۔ سول سرجنز کے مطابق اب تک کے شواہد خودکشی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، لیکن پولیس نے واضح کیا ہے کہ معاملے کو صرف خودکشی تک محدود نہیں رکھا جا رہا۔ ہر پہلو کو باریک بینی سے جانچا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی امکان کو نظرانداز نہ کیا جائے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے صحافی خاور حسین کی سانگھڑ میں موت نے میڈیا حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، اور ان کے ساتھی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ واقعہ ایک بار پھر پاکستان میں صحافیوں کو درپیش خطرات اور غیر یقینی حالات کو اجاگر کرتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے پر مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی، اور حتمی فارنزک رپورٹس موت کی اصل وجہ طے کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہوں گی۔

کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس خبر کا ایک **مختصر ورژن** بھی تیار کر دوں جو سوشل میڈیا یا ہیڈلائنز کے لیے موزوں ہو؟

About نشرح عروج

Nashra is a journalist with over 15 years of experience in the Pakistani news industry.

Check Also

ایس ایس جی کمانڈر میجر عدنان اسلم شہادت کے رتبے پر فاٸز

إِنَّا اِلِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ بہادری کی اعلیٰ مثال قاٸم کرنے والے ایس ایس جی …