ملک میں مون سون کا دسواں اسپیل آج داخل ہونے کا امکان ہے جس کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں موسلادھار بارشیں متوقع ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے سندھ اور پنجاب سمیت مختلف صوبوں کے لیے وارننگ جاری کر دی ہے، جس میں اربن فلڈنگ، فلش فلڈز اور دریاؤں کے شگاف کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والے دنوں میں شدید بارشیں متوقع ہیں۔ جن اضلاع میں خطرہ زیادہ ہے ان میں میرپور خاص، شہید بینظیر آباد، تھرپارکر، خیرپور، سکھر، لاڑکانہ، ٹھٹہ، بدین، سجاول اور حیدرآباد شامل ہیں۔ موسلا دھار بارشوں کے باعث ان نشیبی علاقوں میں شدید پانی بھراؤ اور سیلاب کا امکان ہے۔
کراچی میں بھی پیر سے بدھ تک طوفانی بارشیں متوقع ہیں جبکہ حکام نے شہر میں اربن فلڈنگ کے خدشے کے پیش نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اسی دوران، پنجاب کے دریاؤں سے آنے والا سیلابی ریلا آج پنجند پہنچنے کا امکان ہے جبکہ یہ ریلا آئندہ دو روز میں گڈو بیراج کی طرف بڑھ جائے گا، جس سے قریبی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق 7 سے 9 ستمبر کے دوران اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں بارشیں متوقع ہیں جن میں مری، راولپنڈی، لاہور، جہلم، چکوال، اٹک، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، چنیوٹ، سیالکوٹ اور نارووال شامل ہیں۔ ان علاقوں میں ندی نالوں کے بپھرنے اور فلش فلڈنگ کا شدید خطرہ ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ پہلے سے متاثرہ اضلاع میں صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے اگر بارشوں کا سلسلہ جاری رہا۔ شہریوں کو درج ذیل حفاظتی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی گئی ہے:
محفوظ انخلاء کے راستوں کی پہلے سے نشاندہی کریں۔ ایمرجنسی کٹ تیار رکھیں جس میں بنیادی اشیاء شامل ہوں۔
زیرِ آب سڑکوں اور پلوں کو عبور کرنے سے گریز کریں۔
سیلابی پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے احتیاطی اقدامات کریں۔
ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔
مزید برآں، بھارت نے ایک اور سیلابی ریلا چھوڑ دیا ہے جس کے باعث پاکستان میں ہائی فلڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ اس سے پنجاب سمیت دیگر حساس علاقوں میں دریاؤں کے پانی کی سطح مزید بلند ہونے کا امکان ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ موسمی صورتحال پر نظر رکھیں، احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور اپنی اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ ہنگامی ٹیموں کو الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔
Urdu News Nation