امریکا نے سعودی عرب کے ساتھ سویلین جوہری تعاون کے ایک اہم معاہدے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت سعودی عرب میں ایک پرامن جوہری توانائی پروگرام کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق سخت حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں تاکہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال صرف پرامن مقاصد کے لیے یقینی بنایا جا سکے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام کے معاملے پر کشیدگی برقرار ہے۔ امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ خطے میں جوہری سرگرمیوں کو محفوظ اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق رکھنا اس کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
امریکی محکمہ توانائی کے مطابق، دو الگ الگ معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ ان میں ایک معاہدہ پرامن جوہری تعاون سے متعلق ہے جبکہ دوسرا حفاظتی اقدامات اور نگرانی کے نظام سے متعلق ہے۔ ان معاہدوں پر امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے دستخط کیے۔
معاہدوں کی مکمل تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم امریکی محکمہ توانائی کا کہنا ہے کہ یہ شراکت داری کئی دہائیوں پر محیط اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا راستہ کھول سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ دونوں ممالک کے اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
امریکی میڈیا میں بعض رپورٹس کے مطابق معاہدے کے تحت مستقبل میں امریکی کمپنیاں سعودی عرب میں یورینیم افزودگی سے متعلق تنصیبات کی تعمیر میں حصہ لے سکتی ہیں، تاہم امریکی محکمہ توانائی نے اس حوالے سے باضابطہ طور پر کوئی تصدیق نہیں کی۔
اس معاہدے کو امریکی کانگریس میں جائزے کے لیے پیش کیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ سیاسی صورتحال میں اس کی منظوری میں بڑی رکاوٹ کا امکان کم ہے۔
ماضی میں امریکی قانون سازوں اور اسرائیلی حکام نے ایسے منصوبوں پر خدشات کا اظہار کیا تھا کہ اگر کسی ملک کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت حاصل ہو جائے تو مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔ تاہم سعودی عرب مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اسے بین الاقوامی قوانین کے مطابق پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی پروگرام چلانے کا حق حاصل ہے۔
امریکا گزشتہ چند برسوں سے سعودی عرب کے ساتھ وسیع تر اسٹریٹجک تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں توانائی، دفاع اور علاقائی استحکام جیسے شعبے شامل ہیں۔ اسی تناظر میں جوہری تعاون کو بھی دونوں ممالک کے تعلقات کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے بھی ستمبر 2025 میں باہمی دفاعی تعاون کا ایک معاہدہ کیا تھا، جسے دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق امریکا اس معاہدے کو خطے میں اپنے اسٹریٹجک مفادات، جدید جوہری ٹیکنالوجی کی برآمدات اور عالمی سطح پر جوہری عدم پھیلاؤ کے اصولوں کے فروغ کے لیے اہم سمجھتا ہے۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ یہ معاہدے جوہری تحفظ اور عدم پھیلاؤ کے اعلیٰ ترین عالمی معیار پر پورا اترتے ہیں اور ان میں جدید امریکی ٹیکنالوجی اور ماہرین کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔
دوسری جانب بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یورینیم افزودگی کی صلاحیت سے متعلق معاملات پر احتیاط ضروری ہے، جبکہ دیگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے امریکا کو روس اور چین کے مقابلے میں خطے میں اپنی توانائی اور سفارتی پوزیشن مزید مستحکم کرنے کا موقع ملے گا۔
Urdu News Nation