پاکستان میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو گزشتہ چند دنوں سے جاری کمی کے رجحان کا تسلسل ہے۔

آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق، مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونا 500 روپے سستا ہوگیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 58 ہزار 300 روپے ہو گئی ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 429 روپے کمی کے بعد 3 لاکھ 7 ہزار 184 روپے مقرر کی گئی۔ گزشتہ ہفتے کے دوران یہ کئی بار کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے، جو عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کی تبدیلی اور مقامی کرنسی کے اتار چڑھاؤ کا نتیجہ ہے۔

عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں معمولی کمی آئی ہے۔ فی اونس سونا 5 ڈالر کم ہوکر 3 ہزار 356 ڈالر پر آ گیا۔ ماہرین کے مطابق، عالمی قیمتوں میں کمی کی ایک بڑی وجہ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ مالیاتی پالیسی سے متعلق توقعات ہیں۔ جب سود کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے تو سونے کی کشش کم ہو جاتی ہے کیونکہ اس پر کوئی منافع نہیں ملتا، اس لیے سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری دوسرے شعبوں میں منتقل کر دیتے ہیں۔

مقامی جیولرز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں کمی کی دو بڑی وجوہات ہیں: عالمی مارکیٹ میں نرخوں میں کمی اور پاکستانی روپے کی قدر میں استحکام۔ جب روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں بہتر ہوتی ہے تو درآمدی اشیاء، جن میں سونا بھی شامل ہے، نسبتاً سستی ہو جاتی ہیں۔

اس کمی کے اثرات ملا جلا ردعمل رکھتے ہیں۔ جیولرز کا کہنا ہے کہ قیمت میں کمی عموماً خریداروں کو متوجہ کرتی ہے، خاص طور پر شادیوں یا دیگر خاص مواقع کے لیے سونا خریدنے والے افراد کو، کیونکہ کم قیمتوں پر سونا زیادہ قابلِ استطاعت ہو جاتا ہے۔ تاہم، وہ سرمایہ کار جنہوں نے زیادہ نرخ پر سونا خریدا تھا، اس وقت قلیل مدتی نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔

مارکیٹ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ موجودہ کمی کا رجحان زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتا۔ عالمی غیر یقینی حالات، جیسے جغرافیائی سیاسی کشیدگی، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور بڑی کرنسیوں کی شرحِ تبادلہ میں تبدیلی، سونے کی طلب پر فوری اثر ڈال سکتے ہیں۔ اگر معاشی یا سیاسی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے تو سونے کی طلب دوبارہ بڑھ سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

فی الحال، آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے اپ ڈیٹ جاری کرے گی، تاکہ عالمی اور مقامی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو ظاہر کیا جا سکے۔ خریداروں اور سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ ان اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں اور قلیل مدتی اتار چڑھاؤ کے بجائے طویل مدتی منصوبہ بندی کے مطابق فیصلے کریں۔

About نشرح عروج

Nashra is a journalist with over 15 years of experience in the Pakistani news industry.

Check Also

ایس ایس جی کمانڈر میجر عدنان اسلم شہادت کے رتبے پر فاٸز

إِنَّا اِلِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ بہادری کی اعلیٰ مثال قاٸم کرنے والے ایس ایس جی …