ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان و بلوچستان کے شہر زاہدان میں واقع جوڈیشل کمپلیکس پر ہونے والے دہشتگرد حملے میں 6 افراد جاں بحق جبکہ 13 افراد زخمی ہو گئے۔ ایرانی اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلح دہشتگردوں نے عدالتی عمارت میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کا زیادہ تر نشانہ ججز کے چیمبرز تھے۔
سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر حملہ آوروں کے ساتھ شدید مقابلہ کیا، جس کے دوران تین دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے مزید جانی نقصان سے بچا لیا، تاہم حملے میں متعدد عام شہری، عدالتی عملہ اور سائلین زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں کچھ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم **جیش العدل** نے قبول کر لی ہے، جو کہ ایک سنی عسکریت پسند گروہ ہے اور صوبے میں پہلے بھی کئی حملوں میں ملوث رہا ہے۔ یہ گروہ ایران کی سکیورٹی فورسز اور سرکاری اداروں کو نشانہ بنانے کی تاریخ رکھتا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق حملے کے وقت جوڈیشل کمپلیکس میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ جان بچانے کے لیے بھاگتے رہے۔ سکیورٹی اداروں نے عمارت کو مکمل طور پر گھیرے میں لے کر کلیئر کر لیا ہے اور تحقیقات کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ فرانزک ٹیمیں اور انسداد دہشتگردی یونٹس حملے کی تفصیلات اور حملہ آوروں کی شناخت میں مصروف ہیں۔
ایرانی حکام نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے بزدلانہ حملے انصاف اور قومی سلامتی کے قیام میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ صوبے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور خاص طور پر سرکاری دفاتر، عدالتوں اور دیگر حساس تنصیبات پر حفاظتی انتظامات بڑھا دیے گئے ہیں۔
یہ حملہ رواں سال زاہدان میں ہونے والے بدترین واقعات میں سے ایک ہے، جو اس علاقے میں انتہاپسندانہ سرگرمیوں کی نئی لہر کا عندیہ دیتا ہے۔ حکومت نے جاں بحق افراد کے لواحقین اور زخمیوں کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ شہداء کی نماز جنازہ آج زاہدان میں ادا کی جائے گی۔
Urdu News Nation