ایک معروف امریکی جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے رواں سال جون میں امریکی صدر سے ملاقات سے اس لیے گریز کیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اس ملاقات کے دوران ان کا آمنا سامنا پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کرایا جا سکتا ہے۔
جریدے کے مطابق یہ واقعہ 17 جون کو پیش آیا، جب امریکی صدر نے مودی کو ایک باضابطہ عشائیے کی دعوت دی۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ مودی نے یہ دعوت اس خوف کے باعث مسترد کر دی کہ امریکی صدر اس موقع پر فیلڈ مارشل منیر سے ان کی ملاقات کرا سکتے ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ اسی دن مودی اور امریکی صدر کے درمیان پینتالیس منٹ طویل ٹیلی فونک گفتگو ہوئی، جو نہایت کشیدہ ماحول میں ہوئی اور جسے ماہرین نے پاک-امریکہ تعلقات میں ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔
اس مکالمے کے بعد سے ہی واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں کشیدگی نمایاں ہونا شروع ہوئی۔ چند ہفتوں بعد اس تناؤ کی جھلک اس وقت کھل کر سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی معیشت کو “مردہ” قرار دیا، جو دونوں ممالک میں خاصی توجہ کا باعث بنا۔
بعد ازاں، ٹرمپ انتظامیہ نے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا، جسے حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑا تجارتی جرمانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اقدام نے معاشی محاذ پر بھی تعلقات کو مزید بگاڑ دیا۔
اگرچہ نہ وائٹ ہاؤس اور نہ ہی بھارتی حکومت نے امریکی جریدے کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ تبصرہ کیا ہے، تاہم سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس امر کو اجاگر کرتا ہے کہ جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست اور امریکہ کے پاکستان کے ساتھ بدلتے تعلقات کے تناظر میں، امریکہ-بھارت تعلقات کس قدر پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر، جو پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف ہیں، حالیہ مہینوں میں پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے مختلف دورے اور سفارتی روابط نے پاکستان کے مؤقف کو بین الاقوامی سطح پر مزید مضبوط کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مودی اور فیلڈ مارشل کے درمیان کسی بھی قسم کا براہِ راست یا بالواسطہ رابطہ بڑے سیاسی اثرات کا حامل ہو سکتا ہے، جو اس خدشے کو مزید حقیقت کے قریب لے آتا ہے۔
امریکی جریدے کی یہ رپورٹ حالیہ سفارتی ماحول کو سمجھنے میں ایک نیا پہلو سامنے لاتی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی رہنماؤں کی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں ذاتی، سیاسی اور اسٹریٹیجک عوامل کس طرح اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
Urdu News Nation