امریکا کا صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے پاکستان کی نامزدگی پر ردعمل

امریکا نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 2026 کے نوبل امن انعام کے لیے پاکستان کی جانب سے نامزد کیے جانے پر باضابطہ ردعمل دے دیا ہے۔ پاکستان کی یہ نامزدگی جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے حالیہ بحرانوں میں ٹرمپ کی اہم سفارتی کوششوں کے اعتراف کے طور پر سامنے آئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے پریس بریفنگ میں تصدیق کی کہ پاکستان نے سابق صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا: “یہ نامزدگی صدر ٹرمپ کی اُس فیصلہ کن سفارتی کوشش کا اعتراف ہے، جس کے ذریعے انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ ایٹمی تصادم کو روکا۔”

یہ نامزدگی اُس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید کشیدگی کے دوران صدر ٹرمپ نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔ پاکستانی حکومت نے اس سفارتی کوشش کو سراہتے ہوئے باقاعدہ طور پر ناروے میں نوبیل انعام کمیٹی کو سفارش نامہ ارسال کیا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق، اس مداخلت کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آئی اور بات چیت کا راستہ کھلا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے ایک ایسے وقت میں کردار ادا کیا جب حالات تیزی سے جنگ کی جانب بڑھ رہے تھے۔

پاکستان کے علاوہ، ایک امریکی ریپبلکن رکنِ کانگریس کی جانب سے بھی صدر ٹرمپ کو 2026 کے نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ یہ نامزدگی اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کے اعتراف میں کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ سابق صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ انہیں پاکستان اور بھارت کے درمیان امن قائم کرانے پر نوبیل پرائز ملنا چاہیے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ “نوبیل انعام صرف لبرلز کو دیا جاتا ہے، یہ لوگ مجھے کبھی نہیں دیں گے۔”

یہ دونوں نامزدگیاں — پاکستان اور امریکی قانون ساز کی جانب سے — عالمی سطح پر ٹرمپ کے سفارتی کردار کو اجاگر کر رہی ہیں، تاہم نوبیل کمیٹی کی جانب سے ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ 2026 کے نوبیل امن انعام کا حتمی فیصلہ آئندہ کیا جائے گا۔

About نشرح عروج

Nashra is a journalist with over 15 years of experience in the Pakistani news industry.

Check Also

ایس ایس جی کمانڈر میجر عدنان اسلم شہادت کے رتبے پر فاٸز

إِنَّا اِلِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ بہادری کی اعلیٰ مثال قاٸم کرنے والے ایس ایس جی …