کوئٹہ کے علاقے ڈیگاری سے سامنے آنے والے ایک افسوسناک واقعے میں غیرت کے نام پر قتل کی جانے والی خاتون بانو کی والدہ گل جان نے اپنی بیٹی کے قتل کو درست قرار دیتے ہوئے اسے بلوچ رسم و رواج کے مطابق “جائز سزا” کہا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ویڈیو بیان میں گل جان نے اعتراف کیا کہ بانو کو قتل کیا گیا اور اس عمل کو نہ صرف درست بلکہ قبائلی روایات کے مطابق قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا بلکہ غیرت کا کام کیا ہے، اور اس بات کی گواہی قرآن پاک کو سامنے رکھ کر دی۔
گل جان نے کہا:
“میرا نام گل جان ہے اور میں بانو کی ماں ہوں، اگر کسی کو یقین نہیں تو میرے خون کا لیبارٹری ٹیسٹ کروا لیں۔ میں قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر سچ بول رہی ہوں۔ بانو کوئی بچی نہیں تھی، وہ پانچ بچوں کی ماں تھی۔ اس کا بڑا بیٹا نور احمد 18 سال کا ہے، دوسرا واسط 16 سال کا ہے، بیٹی فاطمہ 12 سال، صادقہ 9 سال اور سب سے چھوٹا بیٹا ذاکر 6 سال کا ہے۔”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانو 25 دن تک اپنے پڑوسی احسان اللہ کے ساتھ بھاگ کر رہی۔ جب وہ واپس آئی تو اس کے شوہر نے بچوں کی خاطر اسے معاف کر دیا، مگر احسان اللہ باز نہیں آیا۔ “وہ ہمیں ٹک ٹاک ویڈیوز بھیجتا، گولیاں دکھاتا اور دھمکیاں دیتا تھا، میرے بیٹے کی تصویر پر کراس لگا کر کہتا کہ میں اسے مار دوں گا۔”
گل جان نے مزید کہا:
“ہم اتنی بے غیرتی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ جو کیا وہ بالکل ٹھیک کیا۔ میں قرآن پر قسم کھا کر کہتی ہوں کہ ان کا قتل ہمارا حق تھا۔ کیا کسی بلوچ کا ضمیر یہ گوارا کرے گا کہ پانچ بچوں کی ماں کسی غیر مرد کے ساتھ بھاگ جائے؟ ہم نے کوئی گناہ نہیں کیا، صرف غیرت کا کام کیا۔”
انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ سردار شیر باز ستک زئی کا اس فیصلے سے کوئی تعلق نہیں، اور جو فیصلہ ہوا وہ بلوچی جرگے میں ہوا، اس میں ستک زئی شامل نہیں تھے۔
“سردار شیر باز ستک زئی اور دیگر گرفتار افراد کو فوری رہا کیا جائے۔”
یہ بیان عوامی سطح پر شدید غصے اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے سخت ردعمل کا سبب بن رہا ہے، کیونکہ غیرت کے نام پر قتل اب بھی ملک میں ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے۔
Urdu News Nation