لیاری حادثے کے بعد کراچی میں 51 خستہ حال عمارتوں کو گرانے کا فیصلہ

کراچی کے علاقے لیاری میں رہائشی عمارت گرنے کے المناک واقعے کے بعد سندھ حکومت نے شہر بھر میں خستہ حال اور خطرناک عمارتوں کے خلاف ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد وزیر بلدیات سعید غنی، سینئر وزیر شرجیل میمن اور وزیر داخلہ ضیاء لنجار نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

وزیر بلدیات سعید غنی نے بتایا کہ کراچی میں 51 عمارتیں انتہائی خستہ اور خطرناک حالت میں ہیں جنہیں فوری طور پر گرائے جانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی کہ 24 گھنٹوں کے اندر ان عمارتوں کی مکمل تفصیل فراہم کریں جس میں ہر عمارت میں موجود یونٹس اور رہائشیوں کی تعداد شامل ہو تاکہ انہدام کا عمل شروع کیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ لیاری کے حادثے میں متاثر ہونے والے ہر خاندان کو 10 لاکھ روپے مالی امداد دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جانی نقصان کا کوئی ازالہ ممکن نہیں، تاہم حکومت متاثرین کی مالی مدد سے ان کے دکھ میں شریک ہونا چاہتی ہے۔

سعید غنی نے انکشاف کیا کہ جس عمارت کے گرنے سے حادثہ پیش آیا، اسے 2022 میں ہی خطرناک قرار دیا جا چکا تھا، لیکن بروقت اقدامات نہ ہونے پر یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ اس غفلت پر انہوں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ افسران کو معطل کر دیا ہے، اور اُن افسران کی نشاندہی بھی کی جا رہی ہے جو اُس وقت علاقے میں تعینات تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی میں 588 عمارتوں کو پہلے ہی خطرناک قرار دیا جا چکا ہے۔ ان کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے گا تاکہ فیصلہ ہو سکے کہ کن عمارتوں کو فوراً گرانا ہے اور کن کی مرمت ممکن ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ کوئی بھی فلیٹ یا پلاٹ خریدنے سے قبل یہ ضرور جانچ لیں کہ اس منصوبے کو متعلقہ اداروں کی منظوری حاصل ہے یا نہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ لیاری کا واقعہ افسوسناک ہے اور سندھ میں کل 740 عمارتیں خطرناک قرار دی جا چکی ہیں۔ ایس بی سی اے کے موجودہ ڈائریکٹر جنرل کو بھی معطل کر دیا گیا ہے جبکہ سابق ڈی جی کے کردار کی تحقیقات جاری ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کراچی کے علاقے لیاری بغدادی میں ایک پانچ منزلہ رہائشی عمارت زمین بوس ہو گئی تھی، جس میں چھ خاندان رہائش پذیر تھے۔ اب تک 27 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ عمارت میں دراڑیں موجود تھیں، لیکن اس کے باوجود دو اضافی منزلیں تعمیر کر دی گئی تھیں، جو سرکاری غفلت کی واضح مثال ہے۔

About نشرح عروج

Nashra is a journalist with over 15 years of experience in the Pakistani news industry.

Check Also

ایس ایس جی کمانڈر میجر عدنان اسلم شہادت کے رتبے پر فاٸز

إِنَّا اِلِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ بہادری کی اعلیٰ مثال قاٸم کرنے والے ایس ایس جی …