پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی گروپ بندی اور رہنماؤں کے درمیان بیان بازی پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اڈیالہ جیل میں ملاقات کے دوران انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو ایک دوسرے کے خلاف بیانات دینے سے سختی سے روکا۔
خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف، جنہوں نے منگل کو عمران خان سے ملاقات کی، نے بتایا کہ پارٹی کے بانی اندرونی اختلافات پر خاصے برہم تھے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پارٹی رہنماؤں کے ایک دوسرے پر الزامات اور سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہمات پر سخت نالاں ہیں اور انہوں نے فوری طور پر ایسی تمام سرگرمیاں روکنے کی ہدایت دی ہے۔
بیرسٹر سیف کے مطابق، عمران خان نے واضح الفاظ میں کہا کہ پارٹی رہنما آپس میں بیان بازی سے گریز کریں اور آنے والی احتجاجی تحریک کے لیے اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اور دیگر ذمے داران کو احتجاجی مہم کے سلسلے میں واضح اور سخت ہدایات جاری کیں تاکہ تحریک منظم طریقے سے آگے بڑھائی جا سکے۔
اس کے ساتھ ہی، عمران خان نے جیل میں اپنی اور اہلیہ بشریٰ بی بی کی حالتِ زار پر بھی بات کی۔ بیرسٹر سیف کے مطابق، عمران خان نے کہا کہ وہ تنہائی میں قید ہیں اور انہیں بنیادی سہولیات تک میسر نہیں، جیسے کہ ٹی وی، اخبار، کتابیں اور یہاں تک کہ کپڑے بھی فراہم نہیں کیے جا رہے۔
ادھر، پارٹی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ حال ہی میں سینئر رہنما سلمان اکرم راجہ نے عالیہ حمزہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، “عالیہ کا کام صرف ٹوئٹ کرنا نہیں بلکہ پنجاب کو متحرک کرنا ہے، وہ اپنا اصل کام کریں۔”
پارٹی کے اندرونی اختلافات کے باعث پی ٹی آئی کی احتجاجی مہم غیر یقینی کا شکار نظر آتی ہے۔ عمران خان کی جانب سے اتحاد پر زور اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حالات میں پارٹی کو شدید دباؤ، قیادت میں ابہام اور اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے اتفاق و اتحاد ناگزیر ہے۔
Urdu News Nation