ٹی وی اداکارہ حمیرا اصغر کی پراسرار موت کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، کراچی پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق اداکارہ کی موت ممکنہ طور پر اکتوبر 2024 میں واقع ہوئی تھی۔ ان کی شدید سڑی ہوئی لاش 8 جولائی 2025 کو ڈیفنس فیز 6 کراچی کے ایک فلیٹ سے ملی۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فرانزک شواہد اور موقع کی صورتحال سے یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اداکارہ کی موت تقریباً 7 اکتوبر 2024 کو ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر سڑتی ہوئی لاش کی بدبو 5 سے 40 دن تک محسوس کی جاتی ہے، تاہم اس کیس میں ساتھ والا فلیٹ کافی عرصے سے خالی تھا اور جس کمرے میں لاش ملی، اس کے واش روم کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی، جس سے بدبو باہر نکلتی رہی اور کسی کو خبر نہ ہوئی۔
ڈی آئی جی نے مزید بتایا کہ چونکہ حمیرا اصغر اکثر کراچی اور لاہور کے درمیان سفر کرتی تھیں، اس لیے لوگوں کو لگا کہ وہ شہر سے باہر ہوں گی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غیر موجودگی کسی کو مشکوک محسوس نہیں ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ ممکنہ موت کی تاریخ کے تین دن بعد عمارت کے چوکیدار نے اداکارہ کو فون کیا لیکن جواب نہ ملا۔ بعد میں ان کے ایک دوست نے بھی انہیں فون کیا، مگر کوئی رابطہ نہ ہو سکا۔
حمیرا کی لاش اس وقت برآمد ہوئی جب کرایہ نہ دینے پر مالک مکان نے عدالت سے رجوع کیا۔ عدالتی بیلف جب فلیٹ پر پہنچا اور دروازہ نہ کھلنے پر زبردستی اندر داخل ہوا تو شدید خراب حالت میں اداکارہ کی لاش ملی۔
پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاش مکمل طور پر سڑ چکی تھی، جس سے اندازہ لگایا گیا کہ موت کو تقریباً 8 ماہ گزر چکے تھے۔
ڈی آئی جی نے کہا کہ فلیٹ مینجمنٹ، سیکیورٹی گارڈ اور پڑوسیوں سے بھی تفتیش کی جائے گی، جبکہ اداکارہ کی سفری معلومات اور کال ریکارڈ بھی کھنگالا جائے گا۔
ادھر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ اہلخانہ کو اطلاع ملنے کے بعد بھی انہوں نے تاخیر سے رسپانس کیوں دیا۔ اطلاعات ہیں کہ والد نے لاش وصول کرنے سے انکار کیا تھا، جبکہ بعد میں بھائی نے خاندان کا مؤقف میڈیا کے سامنے رکھا۔
تحقیقات تاحال جاری ہیں تاکہ حمیرا اصغر کی زندگی کے آخری مہینوں کی مکمل تصویر سامنے آ سکے۔
Urdu News Nation