کراچی ڈمپر حادثہ: ڈرائیور کا لائسنس 8 سال سے ایکسپائر، تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ منظور

راشد منہاس روڈ پر پیش آنے والے مہلک حادثے میں جاں بحق ہونے والے بہن بھائی کے کیس میں ملوث ڈرائیور کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ اس افسوسناک واقعے نے عوامی غصے کو بھڑکا دیا ہے اور سڑکوں پر حفاظتی اقدامات، ڈرائیورز کے لائسنس اور ٹریفک حادثات پر عوامی ردعمل سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

پولیس کے مطابق ملزم کے پاس ہیوی ٹریفک لائسنس نہیں تھا بلکہ صرف لائٹ ٹرانسپورٹ وہیکل (ایل ٹی وی) لائسنس موجود تھا، جو 2016 میں ایکسپائر ہو چکا تھا، یعنی آٹھ سال قبل۔ ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ وسطی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں تفتیشی افسر نے بتایا کہ ڈمپر کے مالک سے متعلق مزید تحقیقات ضروری ہیں۔

یہ مقدمہ تھانہ یوسف پلازا میں درج کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد مشتعل ہجوم نے ڈرائیور پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں اس کی آنکھ پر چوٹ آئی۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب تیز رفتار ڈمپر نے موٹر سائیکل کو ٹکر ماری، جس کے نتیجے میں بہن بھائی موقع پر جاں بحق اور ان کے والد زخمی ہو گئے۔

واقعے کے فوری بعد مشتعل شہریوں نے احتجاجاً سات ڈمپر جلا دیے۔ اس حوالے سے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے سندھ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا اور یقین دہانی کرائی کہ ڈرائیور کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ تاہم، انہوں نے گاڑیاں جلانے کے واقعے کی شدید مذمت کی اور ملوث افراد کو “دہشت گرد ذہنیت رکھنے والے عناصر” قرار دیا، جو کراچی کا امن برباد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی مہذب معاشرے میں ٹریفک حادثات پر گاڑیاں جلانے جیسا عمل نہیں ہوتا، اور حکومت شہر کے امن و امان کو ہر صورت قائم رکھے گی۔

دوسری جانب، حادثے کی وجوہات جانچنے کے لیے چار رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ ٹریفک پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ موٹر سائیکل ممکنہ طور پر ساتھ چلنے والی گاڑی سے ہلکی سی ٹکر کے بعد پھسل گئی۔ حادثے کے وقت ہلکی بارش ہو رہی تھی، جس سے سڑک گیلی تھی۔ توازن بگڑنے پر بہن بھائی گر گئے اور پیچھے سے آنے والے تیز رفتار، خالی ڈمپر نے انہیں کچل دیا، جو فاسٹ ٹریک پر جا رہا تھا۔

حکام اب اس کیس کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات کر رہے ہیں — جن میں ڈرائیور کا ایکسپائر لائسنس، ڈمپر کی ملکیت، گاڑی کی رفتار اور عوامی ردعمل شامل ہیں۔ تفتیش کا مقصد نہ صرف حادثے کے ذمہ داروں کا تعین کرنا ہے بلکہ ایسے غیر لائسنس یافتہ ہیوی گاڑیوں کے ڈرائیورز کے خطرات پر بھی قابو پانا ہے، جو کراچی کی مصروف شاہراہوں پر عوام کی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

About نشرح عروج

Nashra is a journalist with over 15 years of experience in the Pakistani news industry.

Check Also

ایس ایس جی کمانڈر میجر عدنان اسلم شہادت کے رتبے پر فاٸز

إِنَّا اِلِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ بہادری کی اعلیٰ مثال قاٸم کرنے والے ایس ایس جی …