پاکستان میں پہلی بار ڈیجیٹل برتھ رجسٹریشن کا آغاز، سندھ بھر میں فیس ختم

کراچی – پاکستان نے شہری رجسٹریشن کے نظام کو جدید بنانے کی سمت ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے نوزائیدہ بچوں کی ڈیجیٹل پیدائشی رجسٹریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب ملک میں اس طرح کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ اس سنگ میل کو حیدرآباد کے ایک سرکاری اسپتال میں حاصل کیا گیا، جہاں نومولود بچے کی پیدائش کے وقت ہی اس کا ریکارڈ ڈیجیٹل طور پر درج کر لیا گیا۔

سندھ کے چیف سیکرٹری کے ترجمان کے مطابق یہ منصوبہ پیدائش کی رجسٹریشن کے عمل کو آسان، شفاف اور بروقت بنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے، تاکہ نوزائیدہ بچوں کی درست معلومات فوری طور پر محفوظ کی جا سکیں۔ فی الحال یہ نظام سندھ کے 36 سرکاری اور 13 نجی اسپتالوں میں فعال ہے اور آئندہ مزید اسپتالوں میں اسے توسیع دی جائے گی۔

چیف سیکرٹری سندھ نے بتایا کہ یہ منصوبہ محکمہ صحت سندھ، نادرا اور محکمہ بلدیات کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے۔ اس شراکت داری کا مقصد صحت کی سہولیات کو قومی شناختی نظام کے ساتھ منسلک کرنا ہے، تاکہ والدین کو بچے کی رجسٹریشن کے لیے الگ دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں اور یہ عمل پیدائش کے وقت ہی مکمل ہو سکے۔

اس منصوبے کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ سندھ بھر میں پیدائش کی رجسٹریشن کی تمام فیسیں مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہیں۔ فیس کے خاتمے کا مقصد ہر بچے کی بروقت رجسٹریشن کو یقینی بنانا ہے تاکہ پیدائش کے لمحے سے ہی بچے کو قانونی شناخت حاصل ہو۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ان بچوں کے اندراج کے مسائل بھی حل ہوں گے جو رجسٹرڈ نہ ہونے کے باعث تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کے حصول میں مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔

ترجمان کے مطابق یہ ڈیجیٹل نظام رجسٹریشن کے عمل کو تیز، مؤثر اور درست بنائے گا۔ اندراج کا ڈیٹا براہِ راست نادرا کے مرکزی ڈیٹا بیس سے منسلک ہوگا، جس سے معلومات محفوظ، قابل رسائی اور ہر قسم کی جعل سازی سے محفوظ رہیں گی۔

سندھ حکومت اس منصوبے کو پاکستان کے دیگر صوبوں کے لیے ایک ماڈل کے طور پر دیکھتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عالمی معیار کے شہری اعدادوشمار کے نظام کے مطابق ہے۔ اسپتالوں اور رجسٹریشن کے نظام کے انضمام سے صحت عامہ کی منصوبہ بندی اور پالیسی سازی میں بھی بہتری آئے گی۔

حیدرآباد میں پہلی کامیاب رجسٹریشن کو پاکستان کے نظم و نسق اور ریکارڈ رکھنے کے نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام پر امید ہیں کہ جلد یہ نظام دیگر صوبوں میں بھی نافذ ہوگا تاکہ ہر بچہ پیدائش کے لمحے سے ہی شمار ہو، شناخت پائے اور زندگی کے تمام بنیادی حقوق اور مواقع حاصل کر سکے۔

About نشرح عروج

Nashra is a journalist with over 15 years of experience in the Pakistani news industry.

Check Also

ایس ایس جی کمانڈر میجر عدنان اسلم شہادت کے رتبے پر فاٸز

إِنَّا اِلِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ بہادری کی اعلیٰ مثال قاٸم کرنے والے ایس ایس جی …