وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے زرعی شعبے میں تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ پروگرام کے دوسرے مرحلے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس مرحلے کے تحت پنجاب بھر سے 2 ہزار زرعی گریجویٹس کو شامل کیا جائے گا، جنہیں انٹرن شپ کے دورانماہانہ 60 ہزار روپے وظیفہ دیا جائے گا۔
سرکاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ یہ پروگرام نوجوانوں کو عملی تربیت اور مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے تاکہ وہ پیشہ ورانہ زندگی میں کامیابی کے ساتھ قدم رکھ سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہر ضلع کے لیے مقررہ کوٹہ مختص کیا گیا ہے تاکہ صوبے بھر کے نوجوانوں کو برابر کے مواقع میسر آئیں۔
انہوں نے کہا:
“یہ اقدام نہ صرف زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد دے گا بلکہ نوجوان گریجویٹس کو پیشہ ورانہ تجربہ فراہم کر کے ان کے مستقبل کو مضبوط بنائے گا۔”
مریم نواز نے بتایا کہ پنجاب کا کسان کارڈ پروگرام پہلے ہی نئے ریکارڈ قائم کر چکا ہے، جس کے تحت کسانوں کو تمام زرعی سہولتیں ایک ہی پلیٹ فارم پر مہیا کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے دیگر منصوبے بھی کامیابی سے جاری ہیں۔
ان منصوبوں میں گرین ٹریکٹر اسکیم اور ٹیوب ویل سولرائزیشن پروگرام نمایاں ہیں، جو کسانوں کے اخراجات کم کرنے، ماحول دوست طریقوں کو فروغ دینے اور پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے جاری کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے زرعی گریجویٹس پر زور دیا کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور صوبے کے زرعی نظام کی بہتری میں کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف روزگار فراہم کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا تربیت یافتہ اور باصلاحیت افرادی قوت تیار کرنا ہے جو مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔
اس پروگرام سے متعلق مزید معلومات اور رہنمائی کے لیے ایک ہیلپ لائن (0800-17000) پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
یہ انٹرن شپ پروگرام نہ صرف نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرے گا بلکہ زرعی شعبے میں نئی توانائی اور علم کا اضافہ بھی کرے گا، جس سے پنجاب میں زرعی ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔
Urdu News Nation