خیبر پختونخوا میں تین دن کے دوران 10 دہشت گرد حملے، پانچ پولیس اہلکار شہید

خیبر پختونخوا گزشتہ تین دنوں میں دہشت گردی کی ایک نئی لہر کی زد میں رہا، جس میں مختلف اضلاع میں 10 حملے کیے گئے۔ ان حملوں میں پانچ پولیس اہلکار شہید اور پانچ زخمی ہوگئے۔ یہ واقعات صوبے میں شدت پسند سرگرمیوں میں خطرناک اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق یہ حملے 13 اگست سے 15 اگست کے دوران پشاور، دیر بالا، دیر پائیں، شانگلہ اور بنوں میں ہوئے۔ دہشت گردوں نے پولیس چوکیوں، تھانوں اور گشت کرنے والی گاڑیوں کو نشانہ بنایا، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کمزور کرنے کی ایک منظم کوشش معلوم ہوتی ہے۔

تشویشناک سلسلہ 14 اگست کی رات پشاور میں شروع ہوا، جب مسلح دہشت گردوں نے تین مختلف مقامات پر حملے کیے، جن میں پولیس چوکیوں اور تھانہ حسن خیل پر فائرنگ شامل تھی۔ اس کے چند گھنٹے بعد، 15 اگست کی صبح ناصر باغ روڈ پر سڑک کنارے نصب بم پھٹ گیا، جس نے ایک پولیس وین کو نشانہ بنایا اور کئی اہلکار زخمی ہوئے۔

پولیس رپورٹس کے مطابق انہی دنوں دیگر اضلاع میں بھی اسی نوعیت کے واقعات پیش آئے، جن میں بعض مواقع پر پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان مسلح جھڑپیں ہوئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے منظم شدت پسند نیٹ ورکس کی کارستانی ہیں جو مختلف اضلاع میں سرگرم ہیں اور فائرنگ کے ساتھ ساتھ دھماکہ خیز مواد استعمال کر رہے ہیں۔

حالیہ واقعات کے بعد صوبے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی، گشت میں اضافہ کیا گیا اور سرچ آپریشنز جاری ہیں۔ پولیس اور خفیہ ادارے مل کر دہشت گردوں کا سراغ لگانے اور ان کے نیٹ ورکس ختم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

پولیس کے ایک سینئر ترجمان نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کی قربانی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ بزدلانہ کارروائیاں ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔ ہم عوام کے دفاع اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘

یہ حملے صوبے میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر مزید خدشات کو بڑھا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پولیس کو مسلسل نشانہ بنانا انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ چوکس رہیں، خطرناک علاقوں سے گریز کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً دیں۔ صوبائی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ امن و امان کی بحالی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

About نشرح عروج

Nashra is a journalist with over 15 years of experience in the Pakistani news industry.

Check Also

ایس ایس جی کمانڈر میجر عدنان اسلم شہادت کے رتبے پر فاٸز

إِنَّا اِلِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ بہادری کی اعلیٰ مثال قاٸم کرنے والے ایس ایس جی …