قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی: اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں، پی ٹی آئی کا واک آؤٹ

قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کے روز ایک بار پھر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید محاذ آرائی کا منظر پیش کرتا رہا، جس میں نعرے بازی، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑنے اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان کے ڈرامائی واک آؤٹ جیسے واقعات پیش آئے۔

اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس کا آغاز ہوا تو اپوزیشن نے فوراً نکتہ اعتراض پر بات کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ اسپیکر نے پی ٹی آئی رہنما اور سابق اسپیکر اسد قیصر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’آپ بھی اسپیکر رہ چکے ہیں، پہلے وقفہ سوالات مکمل ہونے دیں۔‘‘

کشیدگی اس وقت بڑھی جب وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد مگسی نے وزارت کے تحت چار بڑے ادارے بند کرنے کے حکومتی فیصلے سے ایوان کو آگاہ کیا۔ یہ تحریری فیصلہ اسمبلی میں جمع کرایا گیا جس پر اپوزیشن نے سخت احتجاج اور نعرے بازی شروع کر دی۔ اسپیکر ایاز صادق نے کئی بار اپوزیشن کو خاموش رہنے اور ایوان کا نظم برقرار رکھنے کی اپیل کی۔

تاہم ماحول کشیدہ ہی رہا۔ وقفہ سوالات کے دوران اپوزیشن ارکان اسپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے، نعرے لگائے اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ نکتہ اعتراض پر بولنے کی اجازت نہ ملنے پر پی ٹی آئی کے ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔

ایوان سے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان نے کہا کہ بعض ارکان کی نااہلی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سیاست سے باہر ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارے نااہل ارکان سیاسی جدوجہد کا حصہ ہیں، پی ٹی آئی کے بانی کا انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اگر فیصلہ بدلا تو ہم انتخابی عمل کی طرف جائیں گے۔‘‘

علی محمد خان نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا ضمنی انتخابات کے بارے میں فیصلہ حتمی ہے۔ ان کے مطابق، بانی کا مؤقف ہے کہ نااہل ارکان کے حلقوں میں نئے امیدوار لانا ان کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ ’’ہم اپنے نااہل ارکان کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہیں ایسے کسی فیصلے سے نہیں بدلیں گے جو ان کی وفاداری کو نقصان پہنچائے،‘‘ انہوں نے واضح کیا۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کا مؤقف بانی تک پہنچانا ضروری ہے، اور وہ مؤقف یہ ہے کہ ’’ہم اس فارم 47 کی حکومت کے لیے کوئی نشست خالی نہیں چھوڑیں گے۔‘‘

اجلاس کے دوران پیش آنے والے واقعات نے ایک بار پھر یہ ظاہر کر دیا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے اور پارلیمانی کارروائی سیاسی کشمکش کے سائے میں دب کر رہ گئی ہے۔

About نشرح عروج

Nashra is a journalist with over 15 years of experience in the Pakistani news industry.

Check Also

ایس ایس جی کمانڈر میجر عدنان اسلم شہادت کے رتبے پر فاٸز

إِنَّا اِلِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ بہادری کی اعلیٰ مثال قاٸم کرنے والے ایس ایس جی …