خیبرپختونخوا کے محکمہ سیاحت نے صوبے کے خوبصورت سیاحتی مقامات کی جانب جانے والے سیاحوں کے لیے ایک اہم ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ 21 جولائی سے 29 جولائی کے دوران مختلف علاقوں میں اچانک سیلاب (فلیش فلڈ) کا خطرہ موجود ہے۔
محکمہ سیاحت نے سیاحوں کو ہدایت دی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کسی بھی سیاحتی مقام کی طرف روانگی سے پہلے ہیلپ لائن 1422 پر کال کرکے موسم اور راستوں کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہی حاصل کریں۔ محکمہ نے زور دیا ہے کہ موجودہ مون سون سیزن کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔
سیکرٹری سیاحت ڈاکٹر عبدالصمد نے سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خطرناک علاقوں، خاص طور پر دریاؤں کے کناروں اور پہاڑی راستوں کی طرف جانے سے گریز کریں، کیونکہ ان مقامات پر فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحوں کو دور دراز اور دشوار گزار علاقوں کا سفر صرف ضرورت کے تحت ہی کرنا چاہیے۔
حال ہی میں پیش آنے والے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر عبدالصمد نے بتایا کہ جھیل سیف الملوک جانے والے راستے پر کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں مٹی کا تودہ گرنے سے سڑک بند ہو گئی تھی، جس کے باعث 500 سے زائد سیاح پھنس گئے تھے۔ تاہم کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے فوری ریسکیو آپریشن کے تحت تمام سیاحوں کو بحفاظت نکال لیا۔
ادھر چلاس میں فیری میڈوز جانے والا راستہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہو گیا ہے، جہاں ریسکیو ٹیمیں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ وہاں موجود سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔
محکمہ سیاحت کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی جائے گی۔ سیاحوں سے کہا گیا ہے کہ وہ موجودہ موسم میں غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور مقامی حکام سے رابطے میں رہیں۔
یہ ایڈوائزری مون سون کے موسم میں انسانی جانوں اور املاک کو ممکنہ نقصانات سے بچانے کے لیے احتیاطی اقدام کے طور پر جاری کی گئی ہے۔
Urdu News Nation