بلوچستان میں قتل ہونے والے 9 مسافروں کی لاشیں آبائی علاقوں کو روانہ

بلوچستان میں اغوا کے بعد قتل کیے گئے 9 مسافروں کی لاشیں پنجاب انتظامیہ کے حوالے کر دی گئیں، جس کے بعد انہیں ان کے آبائی علاقوں میں روانہ کر دیا گیا۔ یہ تمام افراد کوئٹہ سے لاہور جانے والی مسافر بس میں سوار تھے جب دہشت گردوں نے بس روک کر انہیں اغوا کیا اور بعد ازاں بے دردی سے قتل کر دیا۔

کمشنر ڈیرہ غازی خان اشفاق احمد کے مطابق یہ لاشیں بلوچستان اور پنجاب کی سرحد پر واقع بواٹہ کے مقام پر وصول کی گئیں۔ پولیٹیکل اسسٹنٹ اسد چانڈیہ نے لاشوں کو وصول کیا اور تمام قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد میتیں متاثرہ افراد کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں۔

یہ افسوسناک واقعہ 10 اور 11 جولائی کی درمیانی شب پیش آیا، جب کالعدم تنظیم *فتنہ الہندوستان* سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے بس کو روکا اور 9 مسافروں کو اغوا کر کے بعد ازاں گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ اس واقعے نے پنجاب بھر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

انتظامیہ نے جاں بحق افراد کی شناخت اور ان کے علاقوں کی تفصیلات بھی جاری کر دی ہیں۔ دو بھائی، جابر اور عثمان، ضلع لودھراں کی تحصیل دنیا پور سے تعلق رکھتے تھے۔ دیگر افراد میں محمد عرفان (ڈیرہ غازی خان)، صابر (گوجرانوالہ)، محمد آصف (مظفرگڑھ)، اور غلام سعید (خانیوال) شامل تھے۔ مزید براں، محمد جنید لاہور، محمد بلال اٹک اور بلاول گجرات کے رہائشی تھے۔

اسسٹنٹ کمشنر ژوب نوید عالم کے مطابق دہشت گردوں نے بس سے اغوا کے بعد مسافروں کو فائرنگ کر کے قتل کیا۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس بزدلانہ دہشت گردی کی شدید مذمت کی ہے اور اسے معصوم شہریوں پر حملہ قرار دیا ہے۔ کوئٹہ تا لاہور بس روٹ پر سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے مزید واقعات کی روک تھام کے لیے سرگرم ہو چکے ہیں۔

جاں بحق افراد کی نماز جنازہ ان کے آبائی علاقوں میں ادا کی جا رہی ہے جہاں غم اور سوگ کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ لواحقین اور عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داروں کو فوری انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اس سانحے نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردی کے خطرات اب بھی موجود ہیں اور شہریوں کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

About نشرح عروج

Nashra is a journalist with over 15 years of experience in the Pakistani news industry.

Check Also

ایس ایس جی کمانڈر میجر عدنان اسلم شہادت کے رتبے پر فاٸز

إِنَّا اِلِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ بہادری کی اعلیٰ مثال قاٸم کرنے والے ایس ایس جی …