گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں شدید بارش کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں پانچ افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جس کے بعد علاقے میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ بابوسر ٹاپ کے مقام پر آنے والے سیلاب کے باعث کئی سیاح لاپتا ہو گئے، جبکہ 200 سے زائد سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ریسکیو کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔
حکام کے مطابق بابوسر کے علاقے میں اچانک کلاؤڈ برسٹ (بادل پھٹنے) کے نتیجے میں شدید سیلاب آیا جس نے کئی گاڑیوں کو بہا دیا اور سیاحوں کو پھنسا دیا۔ ڈپٹی کمشنر دیامر عطاالرحمان کے مطابق سیلاب کے نتیجے میں چار سیاح اور ایک مقامی شخص جان کی بازی ہار گئے۔ جاں بحق افراد میں سے دو کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ ایک تین سالہ بچہ اب بھی لاپتا ہے۔
مقامی رضاکاروں اور ریسکیو ٹیموں کی مدد سے تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ سیاحوں کو ڈھونڈنے کے لیے سراغ رساں کتوں کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔ گلگت بلتستان اسکاؤٹس نے تین خواتین سیاحوں کو کامیابی سے ریسکیو کرکے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ بابوسر روڈ پر لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب سے 7 سے 8 کلومیٹر سڑک مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے، جبکہ 10 سے 15 گاڑیاں، جن میں کوسٹرز بھی شامل ہیں، پانی کے ریلے میں بہہ گئی ہیں۔
قدرتی آفت کے باعث بجلی اور فائبر آپٹک کی لائنیں بھی متاثر ہوئیں، جس سے رابطوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں بھاری مشینری روانہ کر دی گئی ہے تاکہ راستے کھولے جا سکیں۔ ناران کی جانب سے بھی بابوسر روڈ کو کھولنے کی کوششیں جاری ہیں۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق زخمی افراد کو آر ایچ کیو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام نے شہریوں اور سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خراب موسم کے دوران بلند مقامات کا سفر نہ کریں۔ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش اور متاثرین کی امداد کے لیے الرٹ ہیں۔
حکومت کی جانب سے شہریوں اور سیاحوں کی حفاظت کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
Urdu News Nation