ترک خبر رساں ایجنسی نے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی 17 جون کو اسرائیلی حملے میں زخمی ہوئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایرانی حکومت کے اعلیٰ حکام تہران میں ایک محفوظ مقام پر اہم میٹنگ میں مصروف تھے۔
میٹنگ میں حکومت کی تینوں شاخوں کے سربراہان شریک تھے، جس سے اس ملاقات کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ ترک ایجنسی نے صدر کے زخموں کی نوعیت یا حملے کے دوران سیکیورٹی میں ممکنہ خلل کے بارے میں کوئی مزید تفصیل فراہم نہیں کی۔
اسرائیلی حملہ، جو اسی وقت کیا گیا جب یہ خفیہ میٹنگ جاری تھی، ایرانی سیکیورٹی کے لیے ایک سنگین سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ اب تک نہ تو ایرانی حکومت نے اس خبر کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی اسرائیلی حکام کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے آیا ہے۔
اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو اس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل کو ایرانی قیادت کی موجودگی کے بارے میں حساس معلومات حاصل تھیں۔
مزید تفصیلات اور سرکاری مؤقف کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
Urdu News Nation