مستونگ (بلوچستان) – بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سکیورٹی فورسز نے بھارتی حمایت یافتہ گروہ *فتنہ الہندوستان* سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کامیاب آپریشن کیا، جس کے دوران پاک فوج کے دو جوان، جن میں ایک میجر بھی شامل تھے، شہید ہو گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ آپریشن خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیا گیا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ علاقے میں بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشتگرد موجود ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے مؤثر حکمت عملی سے دہشتگردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔
آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں تین دہشتگرد مارے گئے۔ تاہم، اس دوران دو جوانوں نے مادر وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ شہید ہونے والوں میں **میجر زیاد سلیم** (عمر 31 سال) شامل تھے، جو فرنٹ لائن پر اپنی ٹیم کی قیادت کر رہے تھے۔ ان کا تعلق ضلع خوشاب سے تھا۔ ان کے ساتھ شہید ہونے والے **سپاہی ناظم حسین** (عمر 22 سال) کا تعلق جہلم سے تھا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ *فتنہ الہندوستان* ایک بھارتی پراکسی تنظیم ہے، جو پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے عزائم رکھتی ہے۔ مستونگ آپریشن میں اس گروہ کو سخت نقصان پہنچایا گیا ہے، جبکہ علاقے میں مزید کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ باقی دہشتگردوں کا بھی خاتمہ کیا جا سکے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک فوج ہر قسم کی دہشتگردی، خاص طور پر بیرونی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔
“ہماری سرزمین کے بہادر سپوتوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔” آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں مزید کہا۔
مستونگ آپریشن نے ایک بار پھر بلوچستان میں سکیورٹی چیلنجز اور پاکستان کے خلاف جاری بیرونی سازشوں کو بے نقاب کیا ہے۔ قوم اپنے شہیدوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے، جبکہ پاک فوج کا عزم ہے کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔
Urdu News Nation