حالیہ طوفانی بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے شدید متاثر ہونے کے باوجود، دیامر کے مقامی افراد نے انسانیت اور ہمدردی کی شاندار مثال قائم کرتے ہوئے پھنسے ہوئے سیاحوں کو اپنے گھروں میں پناہ دی اور ان کے لیے کھانے پینے اور آرام کا بندوبست کیا۔
یہ سیلاب بابوسر ٹاپ اور تھک نالے کے پہاڑی علاقوں میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث آیا جس نے مقامی آبادی اور سیاحوں دونوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ متعدد مقامی غریب مکین، جن کے کچے گھر، موٹرسائیکلیں اور دیگر سامان تباہ ہوگئے، خود مشکلات کا شکار ہونے کے باوجود سیاحوں کی مدد میں سب سے آگے نظر آئے۔
پولیس، ضلعی انتظامیہ اور مقامی رضاکاروں نے علاقے بھر میں ریسکیو آپریشن جاری رکھا۔ پتھروں، ملبے اور پانی میں پھنسے سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ کئی مقامی افراد نے ان سیاحوں کو اپنے گھروں میں جگہ دی، کھانا فراہم کیا اور بھرپور تعاون کیا۔
ایک جذباتی لمحہ اس وقت سامنے آیا جب ایک متاثرہ بچے نے بتایا کہ اس کے والد نے اپنی بھابھی اور 3 سالہ بیٹے ہادی کو بچانے کے لیے پانی میں چھلانگ لگائی تھی۔ بدقسمتی سے سب کو بچایا نہ جا سکا، جو اس سانحے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
ریسکیو ہونے والے سیاح دیامر کے عوام کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرتے نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ان لوگوں کی ہمدردی اور مدد کو کبھی نہیں بھولیں گے جنہوں نے مصیبت کی گھڑی میں ان کے لیے امید کی کرن بن کر کام کیا۔
حکام کے مطابق اب تک سیلاب میں 5 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ بہہ جانے والے 15 سیاحوں کی تلاش جاری ہے۔ شاہراہ قراقرم بدستور بند ہے جس کی وجہ سے ہزاروں مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔
داسو کے اوچھار نالہ میں بھی کئی گاڑیاں پھنس چکی ہیں جہاں پانی اور ملبے کی وجہ سے راستے ناقابلِ عبور ہو گئے ہیں۔
دیامر کے عوام نے اس مشکل وقت میں جس جذبے سے دوسروں کی مدد کی، وہ نہ صرف زندگیاں بچانے کا ذریعہ بنا بلکہ انسانیت کی ایک روشن مثال بھی بن گیا۔
Urdu News Nation