نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک بھر میں 29 جون سے 5 جولائی تک جاری رہنے والی شدید مون سون بارشوں کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ الرٹ میں شہری و دیہی علاقوں میں سیلاب، اربن فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات سے خبردار کیا گیا ہے۔ شہریوں اور متعلقہ اداروں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق، شدید بارشیں کشمیر، گلگت بلتستان، اسلام آباد، پوٹھوہار ریجن، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، بالاکوٹ، مری اور گلیات میں متوقع ہیں، جہاں لینڈ سلائیڈنگ اور مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
خیبرپختونخوا کے اہم شہروں پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، کوہاٹ، سوات، چترال، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور مردان میں اربن فلڈنگ کا امکان ہے۔ دریائے کابل اور سوات میں پانی کی سطح بلند ہونے کی پیشگوئی بھی کی گئی ہے، جو اطراف کے علاقوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
پنجاب میں بھی شدید بارشوں کا سلسلہ متوقع ہے۔ راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، نارووال، لاہور، فیصل آباد، سرگودھا، شیخوپورہ اور قصور میں نشیبی علاقوں میں سیلابی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔
سندھ کے جنوبی اضلاع، خصوصاً کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ اور بدین میں 2 سے 5 جولائی کے دوران موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے، جہاں نکاسیٔ آب کے ناقص نظام کی وجہ سے اربن فلڈنگ کا شدید خطرہ موجود ہے۔
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ ہزارہ، مالاکنڈ، آزاد کشمیر اور پیر پنجال کے علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات رونما ہو سکتے ہیں، جو سڑکوں کی بندش اور جانی و مالی نقصانات کا سبب بن سکتے ہیں۔
مزید یہ کہ بارشوں اور تیز ہواؤں سے کمزور تعمیرات، کچی دیواریں، بجلی کے کھمبے، درخت اور بل بورڈز گرنے کا خطرہ ہے۔ گرد آلود طوفان اور حد نگاہ کم ہونے کے باعث ٹریفک حادثات کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ندی نالوں کو عبور کرنے سے گریز کریں، کمزور ڈھانچوں، درختوں اور بجلی کی تاروں سے دور رہیں اور موسمی صورتحال سے باخبر رہیں۔ سیاحوں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ہلائی یا متاثرہ علاقوں میں سفر سے پہلے موسم کا حال ضرور معلوم کریں۔
تمام صوبائی اور ضلعی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہائی الرٹ پر رہیں، ایمرجنسی رسپانس کی تیاری مکمل رکھیں اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ این ڈی ایم اے صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے اور وقتاً فوقتاً تازہ اپ ڈیٹس فراہم کرے گا۔
Urdu News Nation