طوفانی بارشیں بونیر میں شادی کی خوشیاں ماتم میں تبدیل، ایک ہی خاندان کے 21 افراد جاں بحق

بونیر – خیبر پختونخوا میں حالیہ طوفانی بارشوں، بادل پھٹنے اور سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ایک المناک واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔ شادی کی تیاریوں میں مصروف ایک ہی خاندان کے 21 افراد اس وقت جاں بحق ہو گئے جب ان کا مکان اچانک آنے والے سیلابی ریلے میں بہہ گیا۔

یہ افسوسناک واقعہ بونیر کے علاقے قادر نگر میں پیش آیا، جہاں اب تک 84 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ کئی لاشیں ملبے اور پانی سے نکالی جا چکی ہیں، تاہم متعدد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق متاثرہ خاندان شادی کی تقریبات کی تیاری کر رہا تھا کہ اچانک آنے والے سیلابی ریلے نے سب کچھ بہا دیا۔ خوشیاں لمحوں میں ماتم میں بدل گئیں اور پورا گاؤں غم میں ڈوب گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق بونیر میں اب تک 200 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ درجنوں زخمی ہیں۔ سیکڑوں مکانات زمین بوس ہوگئے ہیں اور کھیت کھلیان تباہ ہو چکے ہیں۔ مال مویشیوں کی بڑی تعداد بھی سیلابی پانی کی نذر ہوگئی، جس کے نتیجے میں مقامی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے۔

خیبر پختونخوا بھر میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث مجموعی طور پر 328 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید کلاؤڈ برسٹ اور بارشوں کے امکانات ہیں، اس لیے نشیبی علاقوں کے مکینوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ادھر متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں لیکن دور دراز مقامات تک امداد پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ جیو نیوز کی ٹیم قادر نگر تک پہنچ گئی، جہاں تاحال سرکاری ادارے نہیں پہنچ سکے تھے، جس سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ متاثرہ اضلاع میں اضافی امدادی سامان فوری طور پر پہنچایا جائے۔ وفاقی وزراء کو مختلف علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی نگرانی پر مامور کیا گیا ہے۔ انجینئر امیر مقام کو شانگلہ اور بونیر، اویس لغاری کو بونیر، سردار یوسف کو مانسہرہ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی مبارک زیب کو باجوڑ میں امدادی کاموں کی نگرانی سونپی گئی ہے۔

پاک فوج، ریسکیو ادارے اور فلاحی تنظیمیں بھی ریلیف آپریشن میں بھرپور حصہ لے رہی ہیں۔ خیمہ بستیاں، میڈیکل کیمپس اور خوراک کی تقسیم کے مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں حکومت متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور بحالی تک امدادی سلسلہ جاری رہے گا۔

کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس خبر کے لیے **ایک مختصر ہیڈ لائن اسٹائل سنٹینس** بھی بنا دوں جو سوشل میڈیا (جیسے فیس بک یا ٹوئٹر پوسٹ) پر استعمال ہو سکے؟

About نشرح عروج

Nashra is a journalist with over 15 years of experience in the Pakistani news industry.

Check Also

ایس ایس جی کمانڈر میجر عدنان اسلم شہادت کے رتبے پر فاٸز

إِنَّا اِلِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ بہادری کی اعلیٰ مثال قاٸم کرنے والے ایس ایس جی …