ملک بھر میں شدید مون سون بارشوں کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 55 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 227 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے بدھ کے روز یہ تصدیق کی اور آئندہ دنوں میں مزید شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب سے خبردار کیا۔
این ڈی ایم اے کے مطابق، 26 جون سے اب تک ملک بھر میں مون سون بارشوں کے نتیجے میں 178 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں 85 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ زخمیوں کی مجموعی تعداد 491 ہو چکی ہے۔ زیادہ تر ہلاکتیں چھتیں گرنے، کرنٹ لگنے اور سیلابی پانی میں ڈوبنے کے باعث ہوئیں۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں صورتحال خاصی تشویشناک ہے جہاں گزشتہ رات سے جاری موسلا دھار بارشوں نے نظام زندگی مفلوج کر دیا ہے۔ دونوں شہروں میں 250 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقے زیر آب آ چکے ہیں۔ راولپنڈی کے علاقے ڈھوک کھبہ میں پانی جمع ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے کے باعث حکام نے الرٹ جاری کر دیا ہے اور قریبی آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔
ادھر پنجاب حکومت نے حفاظتی اقدامات کے تحت دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ اس کے تحت دریاؤں، نہروں، جھیلوں، ڈیموں، تالابوں اور سڑکوں پر جمع شدہ بارش کے پانی میں نہانے اور تیراکی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ بغیر اجازت کشتی رانی پر بھی مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ پابندیاں 30 اگست 2025 تک نافذ العمل رہیں گی۔
این ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بلا ضرورت گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں، برقی آلات سے دور رہیں اور موسمی اپ ڈیٹس سے باخبر رہیں۔ صوبائی و ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ریسکیو ٹیموں کو تیار رکھیں اور شہری علاقوں میں پانی کی نکاسی کو یقینی بنائیں۔
ملک کے دیگر حصوں سے بھی بنیادی ڈھانچے کو نقصان، سڑکوں کی بندش اور ریسکیو سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ حکومت نے تمام متعلقہ اداروں سے قریبی رابطے میں رہنے اور فوری ردعمل کی ہدایت جاری کی ہے تاکہ اس ہنگامی صورتحال سے موثر طور پر نمٹا جا سکے۔
Urdu News Nation