دورانِ عدت نکاح کے کیس میں بشریٰ بی بی اور عمران خان کو 7,7 سال سزا

عدت کے دوران شادی کے کیس کے حوالے سے اہم پیش رفت کرتے ہوئے اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کرتے ہوئے سینئر سیشن جج قدرت اللہ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں کو 7 سال قید کی سزا کا فیصلہ سنایا۔ یہ فیصلہ تقریباً 14 گھنٹے کی طویل سماعت کے بعد سامنے آیا، جس میں جج قدرت اللہ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں فیصلہ سنایا۔

یہ مقدمہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے عدت کے دوران عمران خان اور بشریٰ بی بی کے درمیان ہونے والی شادی کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے شروع کیا تھا۔ خاص طور پر، شکایت کنندہ نے ان پر ‘عدت’ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کا الزام لگایا، جس کے نتیجے میں قانونی کارروائی کی گئی۔

گواہوں کے بیانات بشمول خاور مانیکا، ان کے ملازم لطیف، مفتی سعید اور گواہ عون چوہدری نے کیس میں اہم کردار ادا کیا۔ گزشتہ روز عمران خان اور بشریٰ بی بی نے اس معاملے پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے بیان ریکارڈ کرایا تھا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں کے قانونی نمائندے سلمان اکرم راجہ نے خاور مانیکا، مفتی سعید، عون چوہدری اور ملازم محمد لطیف سے جرح کی۔

عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اس سے قبل توشہ خانہ کیس میں 14 سال قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑا تھا جب کہ سائفر کیس میں عمران خان کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ حالیہ فیصلے نے ممتاز سیاسی شخصیت اور ان کی شریک حیات کو درپیش قانونی چیلنجوں میں ایک اور پرت کا اضافہ کر دیا ہے۔ اب عمران خان کی مجموعی سزا 31 سال ہو گئی ہے جبکہ بشریٰ بی بی کی مجموعی سزا 21 سال ہے تو کیا یہ سزا عمران خان اور بشریٰ بی بی ایک ساتھ گزریں گے یا مجموعی سزا کہ طور ہہ گزاری جائے یہ یہ سوال ابھی قابل غور ہے.

About نشرح عروج

Nashra is a journalist with over 15 years of experience in the Pakistani news industry.

Check Also

مسلم لیگ ن کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا اجلاس: شہباز شریف قائم مقام پارٹی صدر مقرر

پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے اندر ایک اہم پیش رفت میں، …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *