جنوبی وزیرستان میں گزشتہ چار ماہ سے قبائلی رہنما اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں

جنوبی وزیرستان میں گزشتہ چار ماہ سے قبائلی رہنما اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مظاہرین نے انگور اڈہ سرحدی چوکی پر کیمپ لگا کر اپنے مقصد سے وابستگی کا مظاہرہ کیا۔

قبائلی عمائدین سکولوں اور صحت کی سہولیات کو فعال کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جو اس وقت غیر فعال ہیں۔ وہ بجلی، موبائل سگنل اور انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ مطالبات مقامی کمیونٹیز کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے اہم ہیں۔

ڈپٹی کمشنر نے یقین دلایا ہے کہ مظاہرین کے جائز مطالبات کے حل کے لیے کام جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مزید برآں، انہوں نے اعلیٰ حکام کو مظاہرین کے مطالبات سے آگاہ کرتے ہوئے ان مسائل کو فوری حل کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ کچھ مطالبات میں مرکزی حکومت کی مداخلت کی ضرورت پڑ سکتی ہے، کیونکہ وہ مقامی انتظامیہ کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔ اس کے باوجود مظاہرین اپنے مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھنے کے عزم پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

یہ دھرنا مقامی کمیونٹی کی مایوسی اور شکایات کی عکاسی کرتا ہے، جو طویل عرصے سے نظر انداز اور پسماندہ محسوس کر رہے ہیں۔ یہ حکام کو جنوبی وزیرستان کے لوگوں کو درپیش مسائل کو حل کرنے اور ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کی فوری ضرورت کی یاد دہانی کا کام کرتا ہے۔

About نشرح عروج

Nashra is a journalist with over 15 years of experience in the Pakistani news industry.

Check Also

سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی: ایک تولہ کی قیمت اب 242,000 روپے ہے

مقامی مارکیٹ میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 6200 روپے کی کمی دیکھی گئی۔ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *