آئی ایم ایف کو خط کا کیا اثر ہوگا؟ معاشی ماہرین کی رائے جانیے

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے حال ہی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو خط لکھنے کا غیر معمولی قدم اٹھایا ہے، جس میں آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے پاکستان کے معاشی استحکام پر اثرات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس اقدام نے معاشی ماہرین کی جانب سے متعدد ردعمل کو جنم دیا ہے، جنہوں نے پی ٹی آئی کے اقدامات کے ممکنہ نتائج پر مختلف آراء پیش کی ہیں۔

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے خط کی اہمیت کو کم کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کو خط لکھنے سے موجودہ معاہدوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئی ایم ایف کی توجہ اندرونی سیاسی معاملات کے بجائے اقتصادی اصلاحات پر ہے۔ اسماعیل نے نشاندہی کی کہ پی ٹی آئی اس سے قبل آئی ایم ایف کو بغیر کسی ٹھوس نتائج کے خط لکھ چکی ہے، جس میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ یہ تازہ خط کسی معنی خیز تبدیلی کا باعث نہیں بن سکتا۔

ماہر معاشیات محمد یاسین نے پی ٹی آئی کے خط کو منفی سیاسی اقدام سے تعبیر کرتے ہوئے ایک مختلف نقطہ نظر اختیار کیا۔ یاسین نے دلیل دی کہ آئی ایم ایف کو خط لکھنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور اسے الزام تراشی یا تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب، لاہور چیمبر آف کامرس کے نائب صدر عدنان بٹ نے ایک عملی نقطہ نظر پیش کیا، جس میں کہا گیا کہ آئی ایم ایف عام طور پر سیاسی جماعتوں کے بجائے حکومتوں اور ریاستوں کے ساتھ معاملات کرتا ہے۔ بٹ نے نشاندہی کی کہ آئی ایم ایف نے ماضی میں مختلف حکومتوں کے ساتھ معاہدے کیے ہیں جن میں جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کی قیادت بھی شامل تھی، جس کا مطلب یہ ہے کہ آئی ایم ایف کو خط لکھنے سے پی ٹی آئی کے لیے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔

اقتصادی ماہر منور صابر نے آئی ایم ایف کے فارم 45 یا 47 کی اہمیت پر روشنی ڈالی جس میں امریکی سٹیک ہولڈرز شامل ہیں۔ پی ٹی آئی نے پہلے بھی ان اسٹیک ہولڈرز پر تعصب کا الزام لگایا تھا، اور یہ تجویز کیا تھا کہ ان کا اثر و رسوخ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے نتائج کو متاثر کر سکتا ہے۔ صابر نے امید ظاہر کی کہ نئی حکومت ان چیلنجوں کے باوجود آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب ڈیل کرنے میں کامیاب ہوگی۔

پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر نے اس سے قبل پارٹی کی جانب سے آئی ایم ایف کو خط بھیجنے کے فیصلے کی تصدیق کی تھی، جس میں انہوں نے آئی ایم ایف سے مستقبل کے بیل آؤٹ پیکجز کے دوران پاکستان کے سیاسی استحکام پر غور کرنے کی درخواست کی تھی۔ یہ درخواست پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے ممکنہ اثرات کے بارے میں پی ٹی آئی کے خدشات کی عکاسی کرتی ہے، جو ملک میں اقتصادی اور سیاسی عوامل کے درمیان پیچیدہ عمل کو اجاگر کرتی ہے۔

About نشرح عروج

Nashra is a journalist with over 15 years of experience in the Pakistani news industry.

Check Also

سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی: ایک تولہ کی قیمت اب 242,000 روپے ہے

مقامی مارکیٹ میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 6200 روپے کی کمی دیکھی گئی۔ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *